السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
621. -- باب: كيفية الجهر
-- باب: بلند آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 3072
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَإِنَّ قِرَاءَتَهُ كَانَتْ تُسْمَعُ عِنْدَ دَارِ أَبِي جَهْمٍ بِالْبَلَاطِ" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هُوَ الْبُوشَنْجِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، الْبَلَاطُ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ قَرِيبٌ مِنَ السُّوقِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَقْتِ الَّذِي جَهَرَ فِيهِ عُمَرُ هَذَا الْجَهْرَ مَا كَانَ فِي وَقْتِ نُزُولِ الْآيَةِ مِنْ خَوْفِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يَنَالُوا مِنْهُ.
(ا) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز میں جہری قراءت کیا کرتے تھے اور ان کی قراءت کی آواز ”بلاط“ میں ابو جہم کے گھر کے پاس سنی جاسکتی تھی۔
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہری قراءت کرتے تھے اس وقت مشرکین کی طرف سے وہ خوف نہیں تھا جو آیت کے نزول کے وقت تھا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3072]
(ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہری قراءت کرتے تھے اس وقت مشرکین کی طرف سے وہ خوف نہیں تھا جو آیت کے نزول کے وقت تھا کہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 180»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3072 in Urdu