🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
626. -- باب: الدليل على أنه يقنت بعد الركوع
-- باب: اس بات کی دلیل کہ قنوت رکوع کے بعد پڑھی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ، قُلْتُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهُ، قُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، إِنَّهُ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، زُهَاءُ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُمْ قَوْمٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ الْقُنُوتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ إِنَّمَا كَانَ شَهْرًا حِينَ كَانَ يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا الْقُرَّاءَ، وَأَوْهَمَ أَنَّ الْقُنُوتَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَهُ إِنَّمَا هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ، وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ، ثُمَّ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبْعَدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي غَيْرِ قِصَّةِ الْقُرَّاءِ أَنَّ قُنُوتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ كَانَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
عاصم احول بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قنوت پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: ”رکوع سے پہلے۔“ میں نے کہا: فلاں صاحب آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ صاحب غلط کہتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی وہ بھی رکوع کے بعد۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کو مشرکین کی ایک قوم (بنی عامر) کی طرف (ان کو تعلیم دینے کے لیے) بھیجا تھا لیکن انہیں ان لوگوں کے علاوہ مشرکوں کی ایک قوم نے شہید کر دیا۔ ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا لیکن انہوں نے عہد شکنی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک ان کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
(ب) اسی طرح اس روایت میں عاصم احول سے مروی ہے کہ رکوع کے بعد قنوت صرف ایک مہینہ تک تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان قراء کے قاتلوں پر بددعا کرتے تھے۔ اور اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کی قنوت رکوع سے پہلے ہی تھی۔
(ج) عبدالعزیز بن صہیب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان پر بددعا کی۔
اور یہ قنوت کی ابتدا تھی۔ ہم اس سے پہلے قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
(د) پھر عبدالعزیز نے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ رکوع کے بعد ہے یا قرأت سے فارغ ہونے کے وقت؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ قرأت سے فراغت کے وقت ہے۔“
(ہ) اور ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے علاوہ روایت پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قنوت رکوع کے بعد تھی۔ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 957»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3125 in Urdu