السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
631. -- باب: الترغيب في حفظ وقت الصلاة والتشديد على من أضاعه
-- باب: نماز کے وقت کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور اسے ضائع کرنے والے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3162
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَاصِمٌ هُوَ ابْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] هُوَ الَّذِي يُحَدِّثُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ فِي الصَّلَاةِ، وَقَالَ:" لَا وَأَيُّنَا لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِي الصَّلَاةِ وَلَكِنَّ السَّهْوَ تَرْكُ الصَّلَاةِ، عَنْ وَقْتِهَا" وَقَدْ أَسْنَدَهُ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ.
مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابا جان! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] ”وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں“ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم میں سے کون ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو؟ (یعنی خیالات کو قابو رکھ سکتا ہو؟) لیکن «سَاهُونَ» میں سہو سے مراد نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3162 in Urdu