🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
632. -- باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
-- باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَسِيرِهِمْ قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ:" احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا" فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ فَقُمْنَا فَزِعِينَ فَقَالَ:" ارْكَبُوا" فَسِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَاةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَاءِ، فَتَوَضَّأْنَا مِنْهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ نَادَى بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى صَّلَاةَ الْغَدَاةِ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْنَا فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا الَّذِي تَهْمِسُونَ دُونِي؟" فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ تَفْرِيطُنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ:" أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ" ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الْأُخْرَى، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَسْتَيْقِظُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي لَأَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، حَدِّثْ أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ ⦗٣٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَقَالَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ لِيُبَيِّنَ أَنَّ وَقْتَهَا لَمْ يَتَحَوَّلْ إِلَى مَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ صَلَّاهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، يَعْنِي صَلَاةَ الْغَدِ، وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَلَى الْوَهْمِ.
(ا) عبداللہ بن رباح نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے صحابہ کے سفر والی مکمل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے تھوڑا ہٹ گئے، پھر اپنا سر مبارک رکھا (یعنی آرام کے لیے لیٹ گئے)، پھر فرمایا: ”ہماری نماز کا خیال رکھنا۔“ سب سے پہلے بیدار ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سورج بھی نکل چکا تھا۔ ہم بھی گھبرا کر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو سواریوں پر سوار ہو کر نکلو۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح روشن ہو گیا، پھر آپ نے وضو کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا۔ اس میں کچھ پانی تھا، پھر ہم سب نے اس سے وضو کیا۔ انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پھر مؤذنِ رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز (فجر کی سنتیں) ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ نے اسی طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے۔ ہم میں سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ ہم نے جو نماز میں کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھ کر پوچھا: ”تم کیا سرگوشیاں کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز میں ہماری کوتاہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے میری زندگی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟“ پھر فرمایا: ”نیند کی وجہ سے نماز نہ پڑھنے سے کوتاہی نہیں ہوتی۔ کوتاہی تو اس شخص سے ہوتی ہے جو بیداری اور یادداشت میں نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ جب کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اسے چاہیے کہ جب اٹھے تو اسی وقت پڑھ لے اور آئندہ وقت پر نماز ادا کرے۔“
پھر عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں ضرور اس حدیث کو جامع مسجد میں بیان کروں گا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ارے نوجوان بھائی! دیکھ تو سہی تو کیسے بیان کرے گا؟ حالانکہ میں بھی اس رات کے قافلے کا ایک فرد تھا۔ میں نے عرض کیا: اے ابونجید! آپ بیان کیجیے، آپ اس حدیث کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا تعلق کس سے ہے؟ میں نے عرض کیا: انصار سے۔ انہوں نے فرمایا: تم حدیث کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہو۔ میں نے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً میں اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں کہ کسی ایک نے بھی اس طرح اس حدیث کو یاد رکھا ہو جس طرح آپ نے یاد کر رکھی ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جو اس طرح کرے تو جب اسے پتا چلے وہ نماز ادا کر لے، اور جب اگلا دن ہو تو اسے اس کے وقت پر ادا کرے۔“
(ج) اس سے مراد، واللہ اعلم، یہ واضح کرنا تھا کہ اس نماز کا وقت سورج نکلنے کے بعد کی طرف منتقل نہیں ہوا، لہٰذا جب اگلا دن ہو تو (اگلے دن کی) نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے۔
بعض علماء نے اسے عبداللہ بن رباح کا وہم قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 681»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3172 in Urdu