السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
632. -- باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
-- باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْقَارِيِّ، مِنْ بَنِي قَارَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَحَدِيثُ الْمَسْعُودِيِّ أَحْسَنُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَعَرَّسْنَا، فَقَالَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا لِصَلَاتِنَا؟" وَقَالَ شُعْبَةُ:" مَنْ يَكْلَؤُنَا؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا قَالَ الْمَسْعُودِيُّ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّكَ تَنَامُ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا لِصَلَاتِنَا؟" فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٣١٠⦘ إِنَّكَ تَنَامُ" فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنِمْتُ فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِالشَّمْسِ قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَنَعَ مَا كَانَ يَصْنَعُ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا فَافْعَلُوا، مَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے تو ہم نے رات کو جنگل میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں نماز کے لیے کون جگائے گا؟“ شعبہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم پر پہرہ کون دے گا؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ مسعودی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو جاؤ گے۔“ پھر فرمایا: ”ہمیں نماز کے لیے کون اٹھائے گا؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو جاؤ گے۔“ تو میں نے ان پر پہرہ دیا حتیٰ کہ جب صبح قریب تھی میرے ساتھ وہی ہوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا (کہ تم سو جاؤ گے) تو میں سو گیا۔ دھوپ کی وجہ سے ہم بیدار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور حسب معمول کام کیا پھر فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا کہ تم نہ سوؤ تو تم کبھی نہ سوتے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے بعد والوں کے لیے مسئلہ واضح ہو جائے، لہٰذا تم میں سے کوئی سو جائے یا بھول جائے تو تم اس طرح کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/ 391»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3182 in Urdu