السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
636. -- باب: ما يستحب للمرأة من ترك التجافي في الركوع والسجود
-- باب: عورت کے لیے رکوع اور سجدے میں پہلوؤں کو دور نہ رکھنے (سمٹ کر نماز پڑھنے) کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3198
أَحَدُهُمَا حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ الْعَجْلَانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْأَوَّلُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الصَّفُّ الْآخِرُ" وَكَانَ" يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَتَجَافَوْا فِي سُجُودِهِمْ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ يَنْخَفِضْنَ فِي سُجُودِهِنَّ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَفْرِشُوا الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُوا الْيُمْنَى فِي التَّشَهُّدِ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ ⦗٣١٥⦘ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ وَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ أَبْصَارَكُنَّ فِي صَلَاتِكُنَّ تَنْظُرْنَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ وَاللَّفْظُ الْأَوَّلُ وَاللَّفْظُ الْآخِرُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَشْهُورَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَيْنَهُمَا مُنْكَرٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی بہترین صفیں پہلی صفیں ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ سجدے میں اپنے بازو پہلوؤں سے دور رکھیں اور عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ سجدے سمٹ کر کریں اور مردوں کو حکم دیتے کہ وہ تشہد میں بائیں پاؤں کو بچھائیں اور داہنے کو کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم دیتے کہ چار زانو ہو کر بیٹھیں اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم نماز میں اپنی نظروں کو مت اٹھایا کرو بلکہ پست رکھا کرو تاکہ تم مردوں کی شرمگاہوں کی طرف نہ دیکھ پاؤ۔“
اس حدیث کے پہلے اور آخری الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور ہیں اور ان کے درمیان والے الفاظ منکر ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3198]
اس حدیث کے پہلے اور آخری الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور ہیں اور ان کے درمیان والے الفاظ منکر ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3198 in Urdu