السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
641. -- باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ قَالَ: فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخَذِهِ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَانْكَشَفَ فَخِذَهُ.
(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں جہاد کیا اور ہم نے صبح کی نماز منہ اندھیرے خیبر کے قریب پہنچ کر پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری کو دوڑایا، اس دوران میرا گھٹنا آپ کی ران کو چھو جاتا۔ پھر آپ نے اپنی ران سے تہبند ہٹا دی اور میں آپ کی ران کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اللہ اکبر، خیبر تباہ ہوگیا۔“ پھر فرمایا: ”ہم جب کسی قوم کے آنگن میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوتی ہے۔“۔۔۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے تہبند اتر گیا تھا۔
اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ آپ کی ران کھل گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3238]
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے تہبند اتر گیا تھا۔
اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ آپ کی ران کھل گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 364»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3238 in Urdu