السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
641. -- باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3240
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مِلَاسٍ النُّمَيْرِيِّ الدِّمَشْقِيِّ، ثنا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَخَرَجَ أَهْلُ خَيْبَرَ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ كَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ كُلَّ يَوْمٍ فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، ثُمَّ رَجَعُوا هِرَابَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ" قَالَ ⦗٣٢٦⦘ أَنَسٌ: وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر پہنچے، جب صبح ہوئی تو آپ سوار ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی سوار ہو کر چل پڑے۔ خیبر والے حسبِ سابق اپنے اوزار اور ٹوکریاں لیے نکلے، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو چیخ اٹھے: اللہ کی قسم! محمد اور اس کا لشکر چڑھے آرہے ہیں۔ پھر وہ ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیبر برباد ہوگیا، ہم جب کسی قوم کے آنگن میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوتی ہے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک ہی سواری پر تھا اور میرا گھٹنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کو چھو رہا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3240]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک ہی سواری پر تھا اور میرا گھٹنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کو چھو رہا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3240 in Urdu