السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
641. -- باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3245
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالَّذِي هُوَ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذْ لَا يُظَنُّ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ وَإِنَّمَا يَنْكَشِفُ بِذَلِكَ فِي الْغَالِبِ رُكْبَتَاهُ دُونَ فَخِذَيْهِ، وَرِوَايَةُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَدْ صَرَّحَتْ بِذَلِكَ، أَظُنُّهُ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى.
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنے کپڑوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا ہوا تھا۔
ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے ایک کنارے کو پکڑا ہوا ہو اور اپنی رانوں کے درمیان دے رکھا ہو تو اس سے کسی اور بات کی طرف گمان جاتا ہی نہیں اور اس طرح تو گھٹنے کھلے ہوئے ہو سکتے ہیں نہ کہ رانیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3245]
ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے ایک کنارے کو پکڑا ہوا ہو اور اپنی رانوں کے درمیان دے رکھا ہو تو اس سے کسی اور بات کی طرف گمان جاتا ہی نہیں اور اس طرح تو گھٹنے کھلے ہوئے ہو سکتے ہیں نہ کہ رانیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3245 in Urdu