🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
647. -- باب: الدليل على أنه إنما يلتحف به إذا كان واسعا وإذا كان ضيقا اتزر به وجازت صلاته
-- باب: اس بات کی دلیل کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے اوڑھ لے گا اور اگر تنگ ہو تو اسے تہبند کے طور پر باندھ لے گا اور اس کی نماز جائز ہو جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ أَتَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ وَنَفَرًا قَدْ سَمَّاهُمْ قَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبًا ⦗٣٣٨⦘ مِنْهُ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ، عَنْ صَلَاتِهِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ: أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِيَ الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُونَ عَنْ جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟" فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي قَالَ:" يَا جَابِرُ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَيِّقًا، فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ" قَالَ الشَّيْخُ: فِي كِتَابِي: سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ بِخَطِّ الشِّيرَازِيِّ، وَالصَّوَابُ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ.
سعید بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ہم جماعت کی صورت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ایک ہی کپڑا لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر ان کے پاس ہی پڑی تھی، اگر وہ اس کو لینا چاہتے تو لے سکتے تھے۔ جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے ان کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں ایسا اس لیے کرتا ہوں تاکہ تم جیسے بے وقوف مجھے دیکھیں اور جابر کے حوالے سے اس رخصت کو عام کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دی تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا تو میں رات کے وقت کسی ذاتی کام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا اور مجھ پر ایک ہی کپڑا تھا، تو میں نے اس کپڑے کو لپیٹ لیا اور ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے جابر! رات کے وقت کیسے آنا ہوا؟“ تو میں نے اپنی حاجت آپ کے سامنے بیان کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! یہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کپڑا ایک تھا اور تنگ بھی تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تیرے پاس صرف ایک کپڑا ہو، اگر وہ بڑا ہو تو اس کو لپیٹ لے اور اگر وہ تنگ ہو تو تہبند باندھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3288]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 3006»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3288 in Urdu