🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
649. -- باب: الدليل على أنه يزره إن كان جيبه واسعا ويدعه إن كان ضيقا
-- باب: اس بات کی دلیل کہ اگر قمیص کا گریبان کشادہ ہو تو اس کے بٹن لگا لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3296
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي مَحْلُولٌ أَزْرَارُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ حَدِيثِ زُهَيْرٍ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا أَتَّقِي هَذَا الشَّيْخَ كَأَنَّ حَدِيثَهُ مَوْضُوعٌ وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي بِزُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ هَذَا الشَّيْخَ وَيَقُولُ: هَذَا شَيْخٌ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونُوا قَلَبُوا اسْمَهُ، وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى بَعْضِ هَذَا فِي التَّارِيخِ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَوْجُهٍ دُونَ السَّنَدِ.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا اور ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں زہیر بن محمد منفرد ہیں۔ امام ترمذی سے مجھے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد یعنی امام بخاری سے زہیر کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اس شیخ سے بچتا ہوں، گویا اس کی حدیث موضوع ہے، اور میرے نزدیک یہ زہیر بن محمد نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل اس شیخ کو ضعیف قرار دیتے اور فرماتے: یہ ایسا شیخ ہے کہ لگتا ہے لوگوں نے اس کا نام الٹ دیا ہے۔ امام بخاری نے التاریخ میں اس میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ وله طريق آخر عند البخاري في تاريخ 8/ 174۔ وسنده ايضا ضعيف»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3296 in Urdu