السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
661. -- باب: ما لا يجوز من الكلام في الصلاة
-- باب: نماز میں جو کلام کرنا جائز نہیں اس کا بیان
حدیث نمبر: 3346
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ وَيُومِئُ أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ قَالَ: فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام، کلام اور ایک دوسرے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتے تھے لیکن جب میں (حبشہ سے واپسی پر) ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم نازل فرما دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ تقديم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3346 in Urdu