السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
665. -- باب: من تبسم في صلاته أو ضحك فيها
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں مسکرایا یا اس میں ہنسا
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" التَّبَسُّمُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَلَكِنِ الْقَرْقَرَةُ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رَفَعَهُ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تبسم سے نماز نہیں ٹوٹتی بلکہ کھلکھلا کر ہنسنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف (صحابی کا قول) ہے، ثابت بن محمد زاہد نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ ان کا وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3359]
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف (صحابی کا قول) ہے، ثابت بن محمد زاہد نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ ان کا وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4774»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3359 in Urdu