🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
665. -- باب: من تبسم في صلاته أو ضحك فيها
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں مسکرایا یا اس میں ہنسا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3361
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، أنبأ عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ قَالَ:" مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ" ⦗٣٥٨⦘ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيُّ الْجَزَرِيُّ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ حَكَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي الْمَغَازِي وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ فِي مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قِصَّةٍ مَحْكِيَّةٍ عَنْهُ:" مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ" وَيُذْكَرُ مِثْلُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ نماز مسکرائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آ رہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔“
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔
وازع بن نافع عقیلی جزری پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3361]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه ابو يعلي 2060»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3361 in Urdu