السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
671. جماع أبواب ما يجوز من العمل في الصلاة -- باب: الإشارة برد السلام
نماز میں جو عمل جائز ہے اس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اشارے سے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3400
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنَ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي عَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ:" مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً قَالَ لَيْثٌ: حَسِبْتُهُ قَالَ:" بِأُصْبُعِهِ" وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ بِإِسْنَادٍ فِيهِ إِرْسَالٌ أَنَّهُ أَشَارَ بِيَدِهِ بِلَا شَكٍّ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا۔ لیث کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا: اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
اس قصہ میں ایک ایسی سند سے بھی روایت ہے جس میں ارسال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی شک کے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3400]
اس قصہ میں ایک ایسی سند سے بھی روایت ہے جس میں ارسال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی شک کے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 367»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3400 in Urdu