السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
676. -- باب: الإشارة فيما ينوبه في صلاته يريد بها إفهاما
-- باب: نماز میں پیش آنے والے کسی معاملے میں اشارہ کرنا جب اس سے سمجھانا مقصود ہو
حدیث نمبر: 3416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَأَنَّهُمْ رَدُّوهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ⦗٣٧١⦘ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةُ فَقُلْتُ: قَوْمِي لِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلْتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانَا أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا۔۔۔ پھر انہوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا: انہوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا۔ پس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکعتوں کو نماز عصر کے بعد پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھی اور میرے پاس تشریف لائے، اس وقت انصار میں سے بنو حرام کی چند عورتیں بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو پڑھا تو میں نے ایک لڑکی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طرف کھڑے ہونے کے لیے کہا اور کہا کہ آپ انہیں بتائیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہہ رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا اور اب آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ جانا۔ اس لڑکی نے ویسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہوگئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق دریافت کیا ہے۔ یہ اس لیے کہ قبیلہ عبدالقیس کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے اپنی قوم کے اسلام کے متعلق بتایا اور انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے مصروف رکھا۔ یہ دو رکعتیں وہی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1176۔ مسلم 834»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3416 in Urdu