السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
692. -- باب: الدليل على أن مرور المرأة بين يديه لا يفسد الصلاة
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا تَقُولُونَ فِيمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ، قَالَتْ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سُوءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ کون سی چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: عورت اور گدھے کے گزرنے سے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عورت برا جانور ہے؟ یقیناً میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس طرح کوئی جنازہ ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 512»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3493 in Urdu