السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
692. -- باب: الدليل على أن مرور المرأة بين يديه لا يفسد الصلاة
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ مُعْتَرِضَةً فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ قَالَ:" تَنَحِّي" وَقَالَ عُرْوَةُ: عَنْ عَائِشَةَ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي وَأَوْتَرْتُ وَذَلِكَ أَصَحُّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی طرف لیٹی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو فرماتے: ”ایک طرف ہو جا۔“
(ب) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگاتے اور میں بھی وتر پڑھتی تھی، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3496]
(ب) ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے جگاتے اور میں بھی وتر پڑھتی تھی، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود711»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3496 in Urdu