السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
696. -- جماع أبواب الخشوع في الصلاة والإقبال عليها
-- نماز میں خشوع اور اس کی طرف پوری توجہ کرنے سے متعلق ابواب کا جامع بیان
حدیث نمبر: 3519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَحَانَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ، فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدِيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ: عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ وَإِنَّمَا يَقُولُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ذمہ اونٹوں کو چرانا تھا، ایک دن میری باری آئی، میں شام کے وقت انہیں لے کر واپس آ رہا تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے باتیں کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں پڑھے، ان میں اپنے دل کو مکمل متوجہ رکھے تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے“۔ میں نے کہا: یہ کتنی اچھی بات ہے! اچانک ایک کہنے والے نے کہا کہ اس سے پہلے والی بات اس سے بھی بڑھ کر تھی، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، کہنے لگے: میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی آدمی وضو کرے، پھر پڑھے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے“۔
(ب) کتاب الطہارۃ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرح وضو کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، ان میں اپنے نفس سے باتیں نہیں کیں تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3519]
(ب) کتاب الطہارۃ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرح وضو کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، ان میں اپنے نفس سے باتیں نہیں کیں تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 234»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3519 in Urdu