السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
703. -- باب: سيماهم في وجوههم من أثر السجود
-- باب: ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے“ کے بیان میں
حدیث نمبر: 3558
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: رَأَى أَبُو الدَّرْدَاءِ امْرَأَةً بِوَجْهِهَا أَثَرٌ مِثْلُ ثَفِنَةِ الْعَنْزِ، فَقَالَ:" لَوْ لَمْ يَكُنْ هَذَا بِوَجْهِكِ كَانَ خَيْرًا لَكِ" وَرُوِّينَا عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَنْكَرَهُ وَقَالَ:" وَاللهُ مَا هِيَ سِيمَاءُ.
ابو عون بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے چہرے میں بکری کے گھٹنے کی طرح نشان دیکھا تو فرمایا: اگر تیرے چہرے میں یہ نشان نہ ہوتا تو تیرے لیے بہت اچھا تھا۔
(ب) سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح نہ سمجھا اور کہا: اللہ کی قسم یہ نشان علامت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3558]
(ب) سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح نہ سمجھا اور کہا: اللہ کی قسم یہ نشان علامت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3558 in Urdu