السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
703. -- باب: سيماهم في وجوههم من أثر السجود
-- باب: ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے“ کے بیان میں
حدیث نمبر: 3560
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ فَضْلٍ الضَّبِّيُّ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: ٢٩] أَهُوَ أَثَرُ السُّجُودِ فِي وَجْهِ الْإِنْسَانِ؟ فَقَالَ:" لَا إِنَّ أَحَدَهُمْ يَكُونُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مِثْلُ رُكْبَةِ الْعَنْزِ وَهُوَ كَمَا شَاءَ اللهُ، يَعْنِي مِنَ الشَّرِّ، لَكِنَّهُ الْخُشُوعُ".
منصور رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ [سورة الفتح: 29] ”ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کی وجہ سے ہے“ کے متعلق پوچھا: کیا اس سے مراد انسان کے چہرے میں سجدوں کے نشانات ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں! ان میں سے کسی کی آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے کی طرح نشان ہوتا ہے اور وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا اللہ چاہے، یعنی برا، بلکہ اس سے مراد خشوع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطبري في لغيره 11/ 369»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3560 in Urdu