السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
714. -- باب: من بزق وهو يصلي
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز کی حالت میں تھوکا
حدیث نمبر: 3595
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، وَإِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْصُقَنَّ أَحَدُكُمْ فِي قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ" ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ:" أَوْ يَفْعَلُ كَذَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار میں بلغم دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت گراں گزری اور ناگواری کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے عیاں ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے“ یا فرمایا: ”اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔ لہٰذا تم میں سے کوئی بھی ہرگز اپنے قبلے کی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک دے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے یا چادر کا ایک کنارہ پکڑ کر اس میں تھوکا اور اس کو مسل دیا اور فرمایا: ”یا اس طرح کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3595 in Urdu