السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
723. -- باب: ما يكون منهما نافلة
-- باب: ان دونوں میں سے کون سی نماز نفل ہو گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 3644
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، ثنا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْحَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ:" عَلَيَّ بِهِمَا" فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا قَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهُمَا لَكُمَا نَافِلَةٌ".
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجدِ خیف میں فجر کی نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے پچھلے حصے میں دو آدمی بیٹھے ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں میرے پاس لاؤ۔“ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، وحشت و گھبراہٹ سے ان کے جسم کپکپا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کیا کرو، جب تم گھر میں نماز پڑھ چکے ہو پھر مسجد میں آؤ اور جماعت ہو رہی ہو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3644]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي تخريجه في الحديث 3640»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3644 in Urdu