السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
724. -- باب: من قال الثانية فريضة وفيه نظر
-- باب: اس قول کا بیان کہ دوسری نماز فرض ہو گی اور اس میں نظر (اختلاف) ہے
حدیث نمبر: 3647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا، فَقَالَ:" أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ:" وَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟" قَالَ: إِنِّي كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ، فَقَالَ:" إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَلْتَكُنْ لَكَ نَافِلَةً، وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ" فَهَذَا مُوَافِقٌ لِمَا مَضَى فِي إِعَادَةِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ مُخَالِفٌ لَهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ مِنْهُمَا وَمَا مَضَى أَكْثَرُ وَأَشْهُرُ فَهُوَ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بیٹھا ہوا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ میں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شامل کیوں نہیں ہوئے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، میرا خیال تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مسجد میں آؤ اور لوگوں کو حالت نماز میں پاؤ تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم نماز پڑھ چکے ہو۔ وہ (پہلی نماز) تمہارے لیے نفل بن جائے گی اور یہ فرض۔“
(ب) یہ حدیث اس حدیث کے موافق ہے جو جماعت میں ملنے کی صورت میں نماز کے اعادہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ ان دونوں میں سے فرض نماز میں اس کی مخالف ہے جو اس بارے میں گزر چکی ہے وہ زیادہ مشہور اور راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3647]
(ب) یہ حدیث اس حدیث کے موافق ہے جو جماعت میں ملنے کی صورت میں نماز کے اعادہ کے بارے میں گزر چکی ہے۔ ان دونوں میں سے فرض نماز میں اس کی مخالف ہے جو اس بارے میں گزر چکی ہے وہ زیادہ مشہور اور راجح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3647]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 577»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3647 in Urdu