السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
794. -- باب: الكلام في الصلاة
-- باب: نماز میں کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ." وَقَدْ مَضَى فِي ذَلِكَ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَذَلِكَ كُلُّهُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى الْعَمْدِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو بھی ہم انہیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ جانے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلام کرنے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3903]
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الحميدي 94»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3903 in Urdu