السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
795. -- باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو
-- باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، صَلَّى الْمَغْرِبَ بِالنَّاسِ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ لِيَسْتَلِمَهُ فَنَظَرَ فَرَأَى الْقَوْمَ جُلُوسًا قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى صَلَّى لَنَا الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي فَوْرَتِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِيهًا، لِلَّهِ أَبُوكَ كَيْفَ صَنَعَ؟ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر وہ حجر اسود کا استلام کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے پیچھے دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ واپس آئے اور وہ باقی رکعت ہمیں پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے۔ عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں فوراً ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اچھا بتاؤ، تمہارا بھلا ہو! انہوں نے کیسے کیا؟ میں نے وہ بات دہرائی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة 4504»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3915 in Urdu