🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
796. -- باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب
-- باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَبِنْدَارٌ، قَالُوا: ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَبُوهُ مَطِيرٌ حَاضِرٌ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا أَبَتِ، حَدَّثْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ وَشَيْخَا الصَّحِيحَيْنِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يُصَحِّحَا شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الرِّوَايَاتِ؛ لِمَا فِيهَا مِنْ هَذَا الْوَهْمِ الظَّاهِرِ وَكَانَ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ فَقَدْ أَخْطَأَ فَإِنَّ ذَا الشِّمَالَيْنِ تَقَدَّمَ مَوْتُهُ وَلَمْ يُعَقِّبْ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ.
معدی بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ شعیث بن مطیر نے اپنے والد سے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ ان کا باپ مطیر اس وقت موجود تھا جب اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی کہ اس نے اپنے والد سے کہا: ”اے ابو جان! آپ نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی خشب مقام میں ملے تھے اور انہوں نے آپ کو حدیث بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زوالِ آفتاب کی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تھی، وہ عصر کی نماز تھی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔“ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے سجدے کیے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ صحیحین کے شیخین بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے ان روایات کو صحیح نہیں کہا ہے جن میں یہ وہم ظاہر ہے اور ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”جو بھی اس طرح کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔“
پس بیشک ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی وفات پہلے ہوئی اور وہ باقی نہیں رہے اور ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3929 in Urdu