السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
799. جماع أبواب أقل ما يجزي من عمل الصلاة وأكثره -- باب: تعيين القراءة المطلقة فيما روينا بالفاتحة
نماز کے اعمال میں سے کم از کم جو کفایت کر جائے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: مطلق قراءت کو جو ہم نے روایت کی ہے، سورہ فاتحہ کے ساتھ متعین کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3954
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ الْمَدَنِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَصَرَخَ بِهِ، فَقَالَ:" تَعَالَى يَا أُبَيُّ" فَعَجَّلَ أُبَيٌّ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ يَا أُبَيُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ، أَلَيْسَ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهَ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} الْآيَةَ؟" قَالَ: أُبَيٌّ: جَرَمَ يَا رَسُولَ اللهِ، لَا تَدْعُونِي إِلَّا أَجَبْتُكَ وَإِنْ كُنْتُ مُصَلِّيًا. قَالَ:" تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا؟" فَقَالَ أُبَيٌّ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" لَا تَخْرُجْ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَهَا" وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ لِيَخْرُجَ قَالَ لَهُ: أِيُّ السُّورَةِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَوَقَفَ، فَقَالَ:" نَعَمْ كَيْفَ تَقْرَأُ فِي صَلَاتِكَ؟" فَقَرَأَ أُبَيٌّ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، وَإِنَّهَا لَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّذِي آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ" وَرَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِمَعْنَاهُ فِي قِصَّةِ الْفَاتِحَةِ دُونَ قِصَّةِ الْإِجَابَةِ، وَرَوَاهُ جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَالَفَهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، فَرَوَاهُ عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے انہیں بلایا: ”اے ابی! ادھر آؤ“ تو ابی رضی اللہ عنہ نے جلدی جلدی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے ابی! تمہیں کیا چیز مانع تھی جب میں نے تمہیں بلایا تم آئے نہیں؟ کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ کی بات مانو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر لبیک کہو جب بھی وہ بلائیں“؟“ تو ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے غلطی کی ہے، آپ جب بھی مجھے بلائیں میں آپ کی پکار پر لبیک کہوں گا، اگرچہ میں نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے ایک ایسی سورت سکھاؤں جو اللہ نے نہ انجیل میں نازل کی اور نہ توراۃ میں، نہ زبور میں ہے اور نہ اس کی مثل بقیہ قرآن میں ہے؟“ ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ نے فرمایا: ”اس سورت کو سیکھنے سے پہلے مسجد سے نہ نکلنا“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے مسجد سے نکلنے لگے، جب نکلنے کے لیے دروازے تک پہنچے تو ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: سورت، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، پھر فرمایا: ”اچھا ہاں! تو اپنی نماز میں کیا قرات کرتا ہے؟“ ابی رضی اللہ عنہ نے ام القرآن کی تلاوت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس جیسی سورت نہ توراۃ میں اتاری گئی، نہ انجیل میں نازل ہوئی، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں اس کی مثل کوئی سورت ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے۔“
ایک دوسری سند سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے معنیٰ میں روایت منقول ہے، وہ سورت فاتحہ کے قصہ میں ہے، دورانِ نماز جواب دینے کا قصہ اس کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3954]
ایک دوسری سند سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے معنیٰ میں روایت منقول ہے، وہ سورت فاتحہ کے قصہ میں ہے، دورانِ نماز جواب دینے کا قصہ اس کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الا قوله ام القرآن هي السبع المثاني والقرآن العظيم فصحيحه۔اخرجه الترمذي 2875»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3954 in Urdu