السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
803. -- باب: وجوب التحلل من الصلاة بالتسليم
-- باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3973
أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئُ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوُضُوءُ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ، وَالتَّكْبِيرُ تَحْرِيمُهَا، وَالتَّسْلِيمُ تَحْلِيلُهَا، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمٌ، وَلَا تُجْزِي صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَعَهَا غَيْرُهَا" قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِأَبِي حَنِيفَةَ: مَا يَعْنِي فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمٌ قَالَ: يَعْنِي التَّشَهُّدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کا حلال ہونا سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعتوں میں سلام ہے اور نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک کہ سورہ فاتحہ اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی پڑھا جائے۔“
ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ”دو رکعتوں میں سلام ہے“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ تشہد مراد لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3973]
ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ”دو رکعتوں میں سلام ہے“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ تشہد مراد لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ وله شاهد رواه الطبراني في مسند الشامين 2/289»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3973 in Urdu