السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
814. -- باب: من لم يضيق القراءة فيها بأكثر مما ذكرنا
-- باب: اس قول کا بیان جس نے مغرب کی قراءت کو ہماری ذکر کردہ مقدار سے زیادہ پر تنگ نہیں کیا
حدیث نمبر: 4036
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ" قَالَ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ: الْأَنْعَامُ وَالْأَعْرَافُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلِ.
مروان بن حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو؟ آپ سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے پوچھا: دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی کون سی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: انعام اور اعراف۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 2691»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4036 in Urdu