السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
822. -- باب: من صلى وفي ثوبه أو نعله أذى أو خبث لم يعلم به، ثم علم به
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز پڑھی اور اس کے کپڑے یا جوتے میں کوئی گندگی یا نجاست لگی تھی جس کا اسے علم نہ تھا، پھر اسے معلوم ہو گیا
حدیث نمبر: 4086
أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ فَصَلَّى النَّاسُ فِي نِعَالِهِمْ، ثُمَّ أَلْقَى نَعْلَيْهِ فَأَلْقَى النَّاسُ نِعَالَهُمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ:" مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ فِي الصَّلَاةِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْنَا فَقَالَ:" إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا أَذًى، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ أَذًى وَإِلَّا فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا".
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی اور لوگوں نے بھی اپنے جوتوں میں ہی نماز پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے نماز کی حالت میں ہی اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”نماز کی حالت میں کس چیز نے تمہیں جوتے اتارنے پر ابھارا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو (ایسا) کرتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی ویسا ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ اس میں گندگی ہے، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے دیکھنا چاہیے، اگر تو وہ اپنے جوتوں میں گندگی دیکھے تو اتار دے، ورنہ جوتوں میں ہی نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 11467، ابن حبان 2185»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4086 in Urdu