السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
837. -- باب: نجاسة الأبوال والأرواث وما خرج من مخرج حي
-- باب: پیشاب، لید اور جاندار کے مخرج سے نکلنے والی ہر چیز کی نجاست کا بیان
حدیث نمبر: 4140
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا: فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ" ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، ثُمَّ جَعَلَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ:" لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور انہیں کسی بڑے جرم کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر چھڑی پکڑی اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرکے قبروں پر گاڑ دیا، لوگوں نے کہا: آپ نے یہ کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے گی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4140]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4140 in Urdu