السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
867. -- باب: في كيفية بناء المساجد
-- باب: مساجد تعمیر کرنے کی کیفیت کے بیان میں
حدیث نمبر: 4295
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ⦗٦١٥⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ" ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا" فَقَالُوا: وَاللهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ، كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، وَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَيَقُولُونَ: اللهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَةِ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی علاقے میں قبیلہ عمرو بن عوف کے ہاں چودہ دن قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کے پاس کسی کو روانہ کیا تو وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے اور بنو نجار کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر لیتے جب وقت ہو جاتا اور بکریوں کے باڑے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنو نجار کی طرف کسی کو بھیجا کہ: ”اپنی اس جگہ کی قیمت لے لو“ تو انہوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس زمین میں مشرکین کی قبریں، ویرانہ اور کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم دیا وہ اکھاڑ دی گئیں اور ویرانے کو برابر کر دیا گیا اور کھجوریں کاٹ دی گئیں۔ انہوں نے کھجوروں کو مسجد کے سامنے کھڑا کر دیا اور پتھروں کی چوکھٹ بنا دی۔ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور شعر پڑھ رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ» ”اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4295 in Urdu