🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
878. -- باب: ذكر المعنى في كراهية الصلاة في أحد هذين الموضعين دون الآخر
-- باب: ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ نماز مکروہ ہونے اور دوسری میں نہ ہونے کی وجہ کے بیان کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4358
وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْقَاسِمِ السَّرَّاجُ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَتْكُمُ الصَّلَاةُ، وَأَنْتُمْ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا فِيهَا، فَإِنَّهَا سَكِينَةٌ وَبَرَكَةٌ، وَإِذَا أَدْرَكَتْكُمُ الصَّلَاةُ وَأَنْتُمْ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَاخْرُجُوا مِنْهَا فَصَلُّوا فَإِنَّهَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ، أَلَا تَرَى أَنَّهَا إِذَا نَفَرَتْ كَيْفَ تَشْمَخُ بِأَنْفِهَا؟" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ؛ فَإِنَّهَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ" دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا، كَمَا قَالَ حِينَ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ:" اخْرُجُوا بِنَا مِنْ هَذَا الْوَادِي؛ فَإِنَّهُ وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ" فَكَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ قُرْبَ شَيْطَانٍ، وَكَذَا كَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ قُرْبَ الْإِبِلِ؛ لِأَنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ جِنٍّ لَا لِنَجَاسَةِ مَوْضِعِهَا، وَقَالَ فِي الْغَنَمِ:" هِيَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ" قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْحَدِيثُ فِي النَّوْمِ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَدْ مَضَى، وَأَمَّا حَدِيثُهُ فِي الْغَنَمِ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بکریوں کے باڑے میں ہو اور نماز کا وقت ہو جائے تو اس میں نماز پڑھ لو، کیونکہ اس میں سکونت اور برکت ہے اور اگر نماز کا وقت ہو جائے اور تم اونٹوں کے باڑے میں ہو تو وہاں سے نکل جاؤ، کسی اور جگہ نماز پڑھو، یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب وہ بدکتا ہے تو کیسے ناک چڑھاتا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو سعید کی روایت میں فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔“ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اسی طرح منع کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں نماز سے سو گئے تو فرمایا: ”تم اس وادی سے نکلو کیونکہ اس میں شیطان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے قریب نماز کو ناپسند کیا، ایسے ہی اونٹ کے پاس نماز کو ناپسند کیا کیونکہ یہ بھی جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، نہ کہ ان کی جگہ کے ناپاک ہونے کی وجہ سے۔ اور بکریوں کے بارے میں فرمایا: ”یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4358 in Urdu