السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
888. جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع
نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
حدیث نمبر: 4448
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ ⦗٦٥٦⦘ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ" فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ" فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ" لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ،، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص بکھرے ہوئے بالوں والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور وہ اسلام کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔“ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔“ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”رمضان کے روزے فرض ہیں۔“ اس نے کہا: کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔“ اس شخص نے پیٹھ پھیری اور وہ کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! نہ میں اس میں زیادتی کروں گا اور نہ ہی کمی کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4448]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4446»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4448 in Urdu