السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
888. جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع
نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
حدیث نمبر: 4453
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زُهَيْرٌ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ حَسَنَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ" لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اچھی سنت ہے، کیونکہ ”اللہ رب العزت وتر ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔
(ب) یہ زہیر کی روایت کے الفاظ ہیں، اور ثوری کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ وتر لازم نہیں، بلکہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4453]
(ب) یہ زہیر کی روایت کے الفاظ ہیں، اور ثوری کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ وتر لازم نہیں، بلکہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4453]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4453 in Urdu