السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
888. جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع
نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
حدیث نمبر: 4458
أنبأ الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَصَلَّى الضُّحَى وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَصَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا مَا نَعْرِفُ غَيْرَ الْوِتْرِ قَالَ: إِنَّمَا قَالَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا؛ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور تجھ پر یہ فرض نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی اور تجھ پر یہ فرض نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی اور تجھ پر فرض نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر سے پہلے نماز پڑھی اور تجھ پر فرض نہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یہ وہ چیزیں ہیں جن کو وتر کے علاوہ پہچانا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”اے اہل قرآن! تم وتر پڑھو، اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4458]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4458 in Urdu