السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
895. -- باب: من جعل قبل العصر أربع ركعات
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں مقرر کیں
حدیث نمبر: 4486
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ سَمِعَ جَدَّهُ مُسْلِمَ بْنَ مِهْرَانَ الْقُرَشِيَّ، وَيُقَالُ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْمُثَنَّى؛ لِأَنَّ كُنْيَةَ مُسْلِمٍ أَبُو الْمُثَنَّى ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ أَنْبَأَ بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ الشَّيْخُ: ⦗٦٦٦⦘ وَقَوْلُ الْقَائِلِ فِي الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ، عَنْ أَبِيهِ أَرَاهُ خَطَأً، وَاللهُ أَعْلَمُ، رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ دُونَ ذِكْرِ أَبِيهِ مِنْهُمْ سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ وَغَيْرُهُ.
یہ بھی سابقہ حدیث کی ایک سند ہے، جس میں محمد بن مہران قرشی اپنے دادا ابوالمثنیٰ سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
یہی درست ہے، اور یہ ابوابراہیم محمد بن ابراہیم بن مسلم بن مہران قرشی ہیں، جنہوں نے اپنے دادا مسلم بن مہران قرشی سے سنا ہے۔ انہیں محمد بن مثنیٰ بھی کہا جاتا ہے، یعنی ابن ابی المثنیٰ، کیونکہ مسلم کی کنیت ابوالمثنیٰ تھی، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ میں ذکر کیا ہے۔
پہلی سند میں جس نے ”اپنے والد سے“ کہا ہے، میرے خیال میں وہ غلطی ہے، واللہ اعلم۔ ایک جماعت نے اسے ابوداؤد سے ان کے والد کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، ان میں سلمہ بن شبیب وغیرہ شامل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4486]
یہی درست ہے، اور یہ ابوابراہیم محمد بن ابراہیم بن مسلم بن مہران قرشی ہیں، جنہوں نے اپنے دادا مسلم بن مہران قرشی سے سنا ہے۔ انہیں محمد بن مثنیٰ بھی کہا جاتا ہے، یعنی ابن ابی المثنیٰ، کیونکہ مسلم کی کنیت ابوالمثنیٰ تھی، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ میں ذکر کیا ہے۔
پہلی سند میں جس نے ”اپنے والد سے“ کہا ہے، میرے خیال میں وہ غلطی ہے، واللہ اعلم۔ ایک جماعت نے اسے ابوداؤد سے ان کے والد کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، ان میں سلمہ بن شبیب وغیرہ شامل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الطيالسي 130»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4486 in Urdu