🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
911. -- باب: من أجاز أن يصلي بلا عقد عدد
-- باب: اس قول کا بیان جس نے کسی متعین تعداد کی پابندی کے بغیر نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4582
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، قَالَ: دَخَلَ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ مَسْجِدَ دِمَشْقٍ فَإِذَا بِرَجُلٍ يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَنْظُرَ عَلَى شَفْعٍ يَنْصَرِفُ أَمْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ هَلْ تَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمَ عَلَى وِتْرٍ؟ قَالَ: أَلَّا أَكُونَ أَدْرِي فَإِنَّ اللهَ يَدْرِي، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ يَقُولُ، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" قَالَ: فَقَالَ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: قَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ".
ہارون بن رئاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احنف بن قیس رحمہ اللہ دمشق کی مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو بہت زیادہ رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا، فرماتے ہیں: میں دیکھتا رہا کہ وہ جفت یا طاق پر سلام پھیرتا ہے۔ احنف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب اس نے نماز مکمل کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تو جانتا ہے کہ تو نے نماز جفت پڑھی ہے یا طاق؟ وہ کہنے لگا: میں نہیں جانتا، لیکن اللہ جانتا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام ہو)۔ پھر وہ رو پڑا، پھر اس نے کہا: میں نے اپنے دوست ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹا دیتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: احنف رحمہ اللہ نے پوچھا: آپ کون ہیں، «رَحِمَكَ اللّٰهُ» ”اللہ آپ پر رحم کرے“؟ کہنے لگے: ابوذر رضی اللہ عنہ۔
احنف رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کے بارے میں جو خیال میرے دل میں آیا تھا، اس کی وجہ سے میں اپنے آپ میں چھوٹا ہو کر رہ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4582]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 3561»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4582 in Urdu