السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
923. -- باب: من قال لا يقنت في الوتر إلا في النصف الأخير من رمضان
-- باب: اس قول کا بیان کہ وتر میں صرف رمضان کے آخری نصف حصے میں قنوت پڑھی جائے گی
حدیث نمبر: 4636
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ ⦗٧٠٣⦘ الْأَصَمُّ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الْقُنُوتِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ:" أَمَّا مَسَاجِدُ الْجَمَاعَةِ فَيَقْنُتُونَ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ إِلَى آخِرِهِ، وَأَمَّا أَهْلُ الْمَدِينَةِ فَإِنَّهُمْ يَقْنُتُونَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي إِلَى انْسِلَاخِهِ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.
عباس بن ولید بن مزید اپنے باپ سے نقل فرماتے ہیں کہ اوزاعی رحمہ اللہ سے رمضان کے مہینے میں قنوت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جماعت والی مساجد میں شروع مہینے سے آخر تک قنوت پڑھی جاتی تھی، لیکن مدینہ والے آخری نصف میں قنوت پڑھتے تھے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے، اس کی سند صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4636]
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے، اس کی سند صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4636]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4636 in Urdu