السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
924. -- باب: في قيام الليل
-- باب: قیام اللیل (رات کی نماز) کے بیان میں
حدیث نمبر: 4638
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ (ح) قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا قَتَادَةُ، ثنا زُرَارَةُ بْنُ أَوَفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأْتِهَا فَسَلْهَا، ثُمَّ أَعْلِمْنِي مَا تَرُدُّ عَلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَصْحَبْتُهُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ، فَاسْتَأْذَنَّا فَدَخَلْنَا، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا؟" قَالَ: حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" قُلْتُ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ:" وَمَنْ هِشَامٌ؟" قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَتْ:" نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ" قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ:" فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ" قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي، فَقُلْتُ:" أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ" قَالَتْ:" أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ:" فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، ⦗٧٠٤⦘ وَأَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ" قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ، ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ وَيَدَعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنِيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، يَا بُنِيَّ، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ قِيَامُ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَّاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ" فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقْتَ وَكَانَ أَوَّلَ أَمْرِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ بِشْرٍ: يَعْنِي أَوَّلُ أَمْرِهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً، ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَبِيعُ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلُهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَبَلَغَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْهُمْ سِتَّةً أَرَادُوا وَذَلِكَ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، لَفْظُ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور وتر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”کیا میں تجھے بتاؤں کہ تمام لوگوں سے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے متعلق کون جانتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کون؟ فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا، ان کے پاس جاؤ اور سوال کرو، جو جواب دیں مجھے بھی بتانا۔“ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلا اور راستے سے حکیم بن افلح کو ساتھ لے لیا۔ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اجازت لے کر داخل ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”یہ کون؟“ میں نے کہا: حکیم بن افلح۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”آپ کے ساتھ کون؟“ میں نے کہا: سعد بن ہشام۔ کہنے لگیں: ”ہشام کون؟“ میں نے کہا: ابن عامر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ”عامر اچھا آدمی تھا، احد کے دن زخمی کیا گیا۔“ میں نے کہا: ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں خبر دیں، فرمانے لگیں: ”کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔“
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے (ایک اور سوال) سوجھا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں: ”کیا تو نے پڑھا نہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] اے کپڑا اوڑھنے والے!“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”اس سورہ کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سال تک اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اس سورہ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، قیام اللیل نفل ہوگیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر یاد آ گیا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے، یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”وہ سچ فرماتی ہیں۔“ اور سعد کا ابتدائی معاملہ یہ تھا، ابن بشر کہتے ہیں: یعنی ان کا ابتدائی معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہاں اپنی جائیداد بیچ کر ہتھیار اور گھوڑے خریدیں، پھر مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کریں۔ پھر ان کی ملاقات اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان میں سے چھ آدمیوں نے یہی ارادہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4638]
سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے (ایک اور سوال) سوجھا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں: ”کیا تو نے پڑھا نہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] اے کپڑا اوڑھنے والے!“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”اس سورہ کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک سال تک اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا، پھر اس سورہ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، قیام اللیل نفل ہوگیا۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر یاد آ گیا۔ میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے، یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔“ راوی کہتے ہیں پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”وہ سچ فرماتی ہیں۔“ اور سعد کا ابتدائی معاملہ یہ تھا، ابن بشر کہتے ہیں: یعنی ان کا ابتدائی معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہاں اپنی جائیداد بیچ کر ہتھیار اور گھوڑے خریدیں، پھر مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کریں۔ پھر ان کی ملاقات اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان میں سے چھ آدمیوں نے یہی ارادہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4638]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 746»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4638 in Urdu