السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. -- باب: ما يقول إذا خرج من الخلاء
-- باب: جب بیت الخلاء سے نکلے تو کیا پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 465
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَزَادَ فِيهِ {غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} [البقرة: ٢٨٥] ، قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَمْ أَجِدْهَا إِلَّا فِي رِوَايَةِ ابْنِ خُزَيْمَةَ وَهُوَ إِمَامٌ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي نُسْخَةٍ قَدِيمَةٍ لِكِتَابِ ابْنِ خُزَيْمَةَ لَيْسَ فِيهِ هَذِهِ الزِّيَادَةُ، ثُمَّ أُلْحِقَتْ بِخَطٍّ آخَرَ بِحَاشِيَتِهِ، فَالْأَشْبَهُ أَنْ تَكُونَ مُلْحَقَةً بِكِتَابِهِ مِنْ غَيْرِ عِلْمِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، أَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثنا جَدِّي، فَذَكَرَهُ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ، وَصَحَّ بِذَلِكَ بُطْلَانُ هَذِهِ الزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ.
یحییٰ بن ابو بکیر رحمہ اللہ اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور یہ اضافہ کرتے ہیں: ﴿غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة البقرة: 285] ”اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے“ [باطل]
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسرائیل رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادتی صرف امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ملی ہے۔ پھر میں نے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے قدیم نسخہ کو دیکھا تو اس میں یہ زیادتی نہیں تھی، پھر کسی دوسری لکھائی میں اس کو حاشیہ میں ملا دیا گیا۔ زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ الحاق ان کے علم کے بغیر ان کی کتاب میں کر دیا گیا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔
(ج) امام ابو عثمان صابونی رحمہ اللہ نے ابن خزیمہ کے پوتے ابو طاہر کے واسطے سے ان کے دادا سے یہ حدیث اس زیادتی کے بغیر روایت کی ہے، اور اس سے حدیث میں اس زیادتی کا باطل ہونا ثابت ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 465]
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسرائیل رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادتی صرف امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ملی ہے۔ پھر میں نے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے قدیم نسخہ کو دیکھا تو اس میں یہ زیادتی نہیں تھی، پھر کسی دوسری لکھائی میں اس کو حاشیہ میں ملا دیا گیا۔ زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ الحاق ان کے علم کے بغیر ان کی کتاب میں کر دیا گیا ہو۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔
(ج) امام ابو عثمان صابونی رحمہ اللہ نے ابن خزیمہ کے پوتے ابو طاہر کے واسطے سے ان کے دادا سے یہ حدیث اس زیادتی کے بغیر روایت کی ہے، اور اس سے حدیث میں اس زیادتی کا باطل ہونا ثابت ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 465]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 465 in Urdu