السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
928. -- باب: ما يقول إذا قام من الليل يتهجد
-- باب: جب کوئی رات کو تہجد پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو کیا پڑھے
حدیث نمبر: 4665
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ:" اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ"، أَوْ قَالَ:" لَا إِلَهَ غَيْرُكَ". شَكَّ سُفْيَانُ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ:" وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" لَمْ يَقُلْهَا سُلَيْمَانُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو کھڑے ہوتے تو تہجد پڑھتے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو تہجد پڑھتے اور فرماتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ» ”اے اللہ! تمام تعریف تیرے لیے ہے اور آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے، تو ان کا نور ہے۔“ «وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ» ”تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے، تو ان کو قائم رکھنے والا ہے۔“ «وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ» ”تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے تو ان کا بادشاہ ہے اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔“ «أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ» ”تو سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری بات سچی اور تیری ملاقات حق ہے اور جنت، جہنم، قیامت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، انبیاء تمام حق ہیں۔“ «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ» ”اے اللہ! میں تیرا مطیع ہوا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر میرا بھروسہ ہے اور تیری طرف میں عاجزی و انکساری کرتا ہوں، تیری ہی مدد سے میں نے جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف فیصلہ لایا۔“ «فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ» ”میرے پہلے اور بعد والے گناہ معاف فرما اور جو میں نے پوشیدہ اور ظاہری گناہ کیے ہیں، سب معاف فرما۔“ «أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”مقدم اور موخر تو ہی ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یا فرمایا: صرف تو ہی معبود ہے (الفاظ کا فرق ہے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4665]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو تہجد پڑھتے اور فرماتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ» ”اے اللہ! تمام تعریف تیرے لیے ہے اور آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے، تو ان کا نور ہے۔“ «وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ» ”تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے، تو ان کو قائم رکھنے والا ہے۔“ «وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ» ”تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے تو ان کا بادشاہ ہے اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔“ «أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ» ”تو سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری بات سچی اور تیری ملاقات حق ہے اور جنت، جہنم، قیامت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، انبیاء تمام حق ہیں۔“ «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ» ”اے اللہ! میں تیرا مطیع ہوا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر میرا بھروسہ ہے اور تیری طرف میں عاجزی و انکساری کرتا ہوں، تیری ہی مدد سے میں نے جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف فیصلہ لایا۔“ «فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ» ”میرے پہلے اور بعد والے گناہ معاف فرما اور جو میں نے پوشیدہ اور ظاہری گناہ کیے ہیں، سب معاف فرما۔“ «أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”مقدم اور موخر تو ہی ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یا فرمایا: صرف تو ہی معبود ہے (الفاظ کا فرق ہے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4665]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1069»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4665 in Urdu