السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
936. -- باب: من جهر بها إذا كان من حوله لا يتأذى بقراءته
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے قراءت بآوازِ بلند کی جب اس کے اردگرد موجود لوگوں کو اس کی قراءت سے تکلیف نہ پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 4710
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، أَكَانَ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ". قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً".
عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے قرأت کرتے تھے یا پست آواز سے؟ وہ فرماتی ہیں: کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4710]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ترمذي 449»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4710 in Urdu