🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
944. -- باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة
-- باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4738
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا هِشَامٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: هَذِهِ فُلَانَةُ، تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ:" مَهْ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَأَحَبُّ الدِّينِ مَا دُوِِمَ عَلَيْهِ". وَقَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:" فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" قَالَ فِيهِ بَعْضُهُمْ:" لَا يَمَلُّ مِنَ الثَّوَابِ حَتَّى تَمَلُّوا مِنَ الْعَمَلِ"، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُوصَفُ بِالْمَلَالِ، وَلَكِنَّ الْكَلَامَ أُخْرِجَ مَخْرَجَ الْمُحَاذَاةِ لِلَّفْظِ بِاللَّفْظِ، وَذَلِكَ شَائِعٌ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ وَعَلَى ذَلِكَ خَرَجَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا} [الشورى: ٤٠] قُوْبِلَتِ السَّيِّئَةُ الْأُولَى الَّتِي هِيَ ذَنْبٌ بِالْجَزَاءِ عَلَى لَفْظِ السَّيِّئَةِ، وَالْقِصَاصُ عَدْلٌ لَيْسَ بِسَيِّئَةٍ. وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ} [البقرة: ١٩٤] وَاقْتِصَاصُهُ لَيْسَ بِظُلْمٍ وَلَا عُدْوَانٍ، فَأُخْرِجَ فِي اللَّفْظِ لِلمُحَاذَاةِ عَلَى الِاعْتِدَاءِ وَالْمَعْنَى لَيْسَ بِاعْتِدَاءٍ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ:" فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" أُخْرِجَ مُحَاذِيًا لِلَّفْظِ حَتَّى تَمَلُّوا، وَالْمَعْنَى لَا يَقْطَعُ عَنْهُمْ ثَوَابَ أَعْمَالِهِمْ مَا لَمْ يَمَلُّوا فَيَتْرُكُوهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”یہ فلاں عورت ہے“ اور اس کی نماز کا تذکرہ کیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جاؤ، اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم خود اکتا جاؤ گی اور سب سے زیادہ پسندیدہ عبادت وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے۔“
(ب) ابوبکر اسماعیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد «فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» ”بے شک اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم خود اکتا جاؤ“ کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اللہ ثواب دینے سے نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم عمل کرنے سے اکتا جاؤ گے۔
(نوٹ) اللہ کے لیے لفظِ ملال کا استعمال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تھکتے نہیں ہیں۔
(ج) یہ الفاظ صرف الفاظ کو برابر کرنے کے لیے لائے گئے ہیں اور یہ کلامِ عرب میں جائز ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ [سورة الشورى: 40] ، یہاں پہلا لفظ ”سیئہ“ اس سے مراد گناہ ہے اور دوسرے لفظ سے مراد بدلہ ہے۔
قصاص عدل ہے برائی نہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة البقرة: 194] ”پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے“۔
قصاص میں نہ ظلم ہوتا ہے اور نہ ہی زیادتی، لیکن ایک جیسے الفاظ کا استعمال صرف الفاظ کی برابری کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4738]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4738 in Urdu