السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
944. -- باب: القصد في العبادة، والجهد في المداومة
-- باب: عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے اور اس پر ہمیشگی کے لیے کوشش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4746
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ:" مَا هَذَا الْحَبْلُ؟" قَالُوا: لِفُلَانَةَ، تُصَلِّي فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِتُصَلِّي مَا عَقِلَتْ، فَإِذَا خَشِيَتْ أَنْ تُغْلَبَ فَلْتَنَمْ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ رسی کس کی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں عورت کی ہے وہ اس کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں، جب اس پر نیند غالب آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹک جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک وہ بیدار رہے نماز پڑھے، جب نیند کے غلبہ کا خطرہ ہو تو سو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4746]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4739»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4746 in Urdu