السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
947. -- باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا
-- باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ". قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: مُتَسَلِّمٌ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ، وَفِي رِوَايَةِ آدَمَ" فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ" فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ فَقَالَ:" السَّلَامُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ". وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ عَنْ شُعْبَةَ ثنا عُقْبَةُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَثْنَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن حریث سے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ صبح کا وقت ہو جائے گا تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: دو دو سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے: ”ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: دو دو سے کیا مراد ہے؟ وہ کہتے ہیں: دو رکعات کے بعد سلام پھیرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4773]
(ب) آدم کی روایت میں ہے: ”ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: دو دو سے کیا مراد ہے؟ وہ کہتے ہیں: دو رکعات کے بعد سلام پھیرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4773]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 749»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4773 in Urdu