السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
947. -- باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا
-- باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4796
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَا قُدِّرَ لَهُ سَجْدَتَيْنِ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً، فَجَعَلَهَا آخِرَ ⦗٤٠⦘ صَلَاتِهِ، وَنَزَلَ وَسَلَّمَ فِي السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ فِي إِثْرِهِمَا الْوِتْرُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَصَلَّى الْوِتْرَ. وَقَالَ: قَالَ نَافِعٌ: سَمِعْتُ مُعَاذًا الْقَارِئَ يَفْعَلُ ذَلِكَ". تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ عَنْهُمَا جَمِيعًا. وَمِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو دو دو رکعات نماز پڑھتے تھے، جو ان کے مقدر میں ہوتی۔ اگر صبح ہونے کا ڈر ہوتا تو ایک رکعت پڑھتے، یہ ان کی نماز کے آخر میں ہوتی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھ جاتے اور ان دو رکعات میں سلام پھیرتے، جس کے بعد وتر ہوتا تھا۔ پھر «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور وتر پڑھ لیتے۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاذ القاری رحمہ اللہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4796]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ موطاء 251»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4796 in Urdu