السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
951. -- باب: في الركعتين بعد الوتر
-- باب: وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَابِ الشَّامِ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَائِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". ⦗٤٨⦘ مَيْمُونٌ هَذَا بَصْرِيٌّ وَلَا بَأْسَ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُدَلِّسُ، قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ حَكِيمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَخَالَفَهُمَا هِشَامٌ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَهَذَا أَصَحُّ.
حسن کی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعات بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
یہ میمون بصری ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں، البتہ یہ تدلیس کرتے تھے، یہ بات امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ یہ روایت زکریا بن حکیم عن الحسن کے طریق سے بھی مروی ہے، اور ہشام نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حسن عن سعد بن ہشام عن عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4822]
یہ میمون بصری ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں، البتہ یہ تدلیس کرتے تھے، یہ بات امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ یہ روایت زکریا بن حکیم عن الحسن کے طریق سے بھی مروی ہے، اور ہشام نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حسن عن سعد بن ہشام عن عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4822]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ترمذي 471»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4822 in Urdu