السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
952. -- باب: من قال يجعل آخر صلاته وترا وأن الركعتين بعدها تركتا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ ”اپنی آخری نماز وتر کو بنائے“ اور یہ کہ ”اس کے بعد کی دو رکعتیں ترک کر دی گئیں“۔
حدیث نمبر: 4830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ ⦗٥٠⦘ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا" ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي هُوَ ذَاكَ الرَّجُلُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سائل کے درمیان تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعات، جب تو صبح کے وقت سے ڈرے تو ایک رکعت نماز ادا کر اور اپنی آخری نماز وتر کو بنا۔“ پھر ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جگہ ایک سال کے بعد سوال کیا، مجھے معلوم نہیں یہ وہی شخص تھا یا کوئی دوسرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی یہی جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 461»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4830 in Urdu